558

قبروں کو پکا کرنا(بنانا) کیسا

قبر کو پختہ کرنا

احادیث مبارکہ میں قبر کو پختہ کرنے کی ممانعت آئی ہے تو سب سے پہلے یہ جان لینا چاہئے کہ قبر کسے کہتے ہیں قبر انسان کے دفن کرنے کی جگہ کو کہتے ہیں امام راغب اصفہانی نے قبر کا معنی میت کے ٹھہرنے کی جگہ بیان کیا ہے اور بعض نے لکھا ہے کہ قبر وہ گڑھا ہے جس میں مردے کو دفن کیا جائے گویا قبر اس گڑھے کو کہا جاتا ہے جس میں میت کو دفن کیا جاتا ہے اور احادیث میں جس قبر کو پختہ کرنے اس پربیٹھنے اور تکیہ لگانے سے منع کیا گیا اس سے مراد وہ گڑھا ہے جو لحد کی شکل میں ہو یا وہ جوشق کی صورت میں بنا کر دیواریں کھڑی کی جاتی ہیں ان کو پختہ کرنا اور اس کے برابر اوپر والا حصہ جو کوہان نما ہوتا ہے احادیث کی روشنی میں وہ بھی قبر ہےسو اس کو بھی پختہ کرنا اس پر بیٹھنا اور اس سے تکیہ لگانا منع ہے جو احادیث میں ممانعت آئی ہے وہ اسی حوالے سے ہے بامر مجبوری علماء نے اسے بھی پختہ کرنا جائز قرار دیا ہے اس کوہان نما قبر سے باہر کے حصہ کو پختہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بلکہ اس حصہ کو پختہ کرنا اس سے میت کو تحقیر سے بچانا درندوں وغیرہ سے بچانا یا قبر کو گرنے سے بچانامقصود ہےتو یہ بہتر ہے اگر بغرض عبادت اور طواف ہو تو حرام ہے آج کل قبر کو اوپر سے مکمل طور پر پختہ کر دیا جاتا ہے جو کہ ناجائز ہے بلکہ وہ جو اندر سے قبر ہے وہی باہر سے بھی قبر ہے سو جس طرح اندر سے پختہ کرنا جائز نہیں ایسے ہی اس کے برابر باہر سے بھی پختہ کرنا جائز نہیں اور اس کے دائیں بائیں حصے کو پختہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے
اسی کو فقہاء وعلماء نے بیان فرمایا ہے
اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں کہ
” ان ہڈیوں کو دفن کرنا واجب ہے اور قبر میت کے گرد پکی نہ ہو اوپر سے پکی کر سکتے ہیں” فتاوی رضویہ جلد 9 باب الجنائز صفحہ نمبر 406
اور دوسری جگہ پر ایک اور سوال کے جواب میں بیان فرماتے ہیں کہ
”قبر کو پختہ نہ کرنا بہتر ہے اور کریں تو اندر سے کڑا کچا رہے اوپر سے پختہ کر سکتے ہیں”
فتاوی رضویہ جلد 9 باب الجنائز صفحہ 425
اسی طرح فتاوی نوریہ میں بیان کیا گیا ہے کہ
”قبر کا اوپر سے پختہ بنانا اگر نیت صالحہ سے ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اور ایسے ہی روضہ بنانا نیت صالحہ سےاور مشکوۃشریف کی جو حدیث ہے کہ یعنی” منع فرمایا رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے قبروں کو گچ کرنے سے اور ان پر بناء کرنے سے اور بیٹھنے سے ” یہ حدیث اور اس کے ہم معنی جو اور ہو۔ ان سے قبر کو بنیت صالحہ اوپر سے مطلقاًپختہ کرنا اور روضہ بنانا ممنوع نہیں ہو سکتا کہ اگر یہ معنی مراد ہوتا توروضہ انور محبوب اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تعمیر نہ کیا جاتا اور ایسے ہی صحابہ کرام اور سلف الصالحین ہرگز ہرگز صلحاء کے روضے بناء نہ کرتے اور قبور مطہرہ کو کنکریوں اور پانی سے پختہ نہ کیا جاتا”
یوں ہی فتاوی دارالعلوم زکریا (دیوبند) میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے بیان کیا گیاکہ ” قبر درمیان سے کچی رہےاور ارد گرد گرنے کے اندیشہ سے اینٹیں رکھ دی جائیں تو درست ہے ورنہ نفس قبر کو پختہ بنانے کی ممانعت احادیث سے ثابت ہے لہذا اجتناب ضروری ہے اور آگے کفایت المفتی کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ قبر کو چار طرف سے پختہ بنانا اسی طرح کے میت کے جسم کے محاذ میں نیچے سے اوپر تک کچی رہے مباح ہے یعنی میت کاجسم چاروں طرف سے مٹی کےاندر رہے پرے پختہ ہو جائے تو حرج نہیں ہے “
فتاوی دارالعلوم زکریا جلد 2 کتاب صلاۃ،باب دفن المیت،صفحہ 645,646
ایسے ہی نفس قبر کو پختہ کرنا حدیث کی روشنی میں منع ہے اور اس پر تمام ائمہ و مشائخ کا اتفاق ہیں
جیسا کہ احادیث میں بیان فرمایا ہے
عن جابر قال نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تجصص القبر وان یقعد علیہ و ان یبنی علیہ۔
صحیح مسلم،جلد 1 ،کتاب الجنائز، فصل فی النھی ان تجصیص القبور والقعود والبناء علیہا،صفحہ 312
“حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کو پختہ بنانے سے قبروں پر بیٹھنے سے اور قبروں پر عمارت تعمیر کرنے سے منع فرمایا ہے”
عن جابر قال نھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان تجصص القبور وان یکتب علیہا و ان یبنی علیہاوان توطا۔
جامع ترمذی، جلد نمبر 1، ابواب الجنائز،باب ماجاء فی کراہیۃ تجصیص القبور والکتابۃ علیہا صفحہ 329
“حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبر کو پختہ بنانے اس پر لکھنے اور اس پر عمارت بنانے اور اس پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے”
عن حسن بن صالح عن عیسی بن ابی عزة قال سمعتہ ینھی عن تجصیص القبر قال لا تجصصوہ۔
مصنف ابن ابی شیبہ (مترجم)، جلد3 ،کتاب الجنائز، باب فی تجصیص القبروالاجر یجعل لہ، صفحہ 702
“حضرت حسن بن صالح رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے عیسی بن ابی عزہ سے قبر کو پکا کرنے کی ممانعت سنی ہےوہ فرماتے ہیں قبریں پکی مت کرو”
علامہ نووی شافعی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ “
سنت یہ ہے کہ قبر کو زمین سے زیادہ بلند نہ کیا جائے نہ کوہان کی شکل میں بنایا جائے بلکہ ایک بالشت بلند کر کے ہموار مسطح بنائی جائے نیز لکھتے ہیں کہ قبر کو پختہ بنانا اس پر عمارت تعمیر کرنا اور اس پر بیٹھنا مکروہ ہے”
شرح مسلم لامام نووی، جلد 1، صفحہ 312
علامہ وشتانی مالکی لکھتے ہیں کہ
“امام مالک کے نزدیک قبر کو پختہ بنانا اور اس پر عمارت تعمیر کرنا مکروہ ہے”
اکمال اکمال المعلم، جلد 3، صفحہ 99
اسی طرح علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں کہ
“قبر کو پختہ بنانا اور اس پر عمارت تعمیر کرنا مکروہ ہے”
المغنی، جلد 2، صفحہ 192
مذکورہ احادیث میں مطلق قبر کے پختہ کرنے کا ذکر ہے اوران احادیث کی روشنی میں مشائخ نے بھی یہی ذکرکیا جس سے مراد نفس قبر ہے اور اس بات پر پوری امت متفق ہے کہ قبور کو پختہ نہ کیا جائے مگر جب کوئی عذر معقول ہوجیسے زمین نرم ہو یا درندوں سے بچنا مشکل ہو یا قبر کے گرنے کا خوف ہو تو قبر کو پختہ کیا جا سکتا ہے ورنہ جائز نہیں گویادلائل سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ نفس قبر کو پختہ کرنا جائز نہیں مگر جن علماء نے جائز کہا وہ یہ کہ قبر کو اندر سے یعنی میت کے دائیں بائیں چار دیواری کو پختہ کرنا یا اوپر سے نفس قبر کو پختہ کرنا جائز نہیں باہر سے نفس قبر کے دائیں بائیں سے پختہ کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے تاکہ قبر توہین و تحقیر اور درندوں وغیرہ سے محفوظ رہ سکےاگر یہ بھی جائز نہ ہوتا تو صحابہ کرام کے دور میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ مبارک کو پختہ نہ کیا جاتا اور نہ ہی سلف صالحین یہ کام کرتے مختصراً خلاصہ یہ ہے کہ نفس قبر کو پختہ کرنا جائز نہیں اور اوپر کوہان نما کے دائیں بائیں پکی کرنے میں کوئی حرج نہیں تاکہ علامت قبر بھی باقی رہے اور قبر کی حفاظت بھی رہی مگر قبر کے بالکل اوپر سے یعنی کوہان نما حصے کو پختہ نہ کیا جائے واللہ اعلم ورسولہ اعلم

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں