513

شیعہ اہلسنت ہیں؟ ایک ناکام کوشش۔

ایک شیعہ عالم ؛ جناب حسین الامینی نے ایک کتاب لکھی جس کا نام “شیعیت کا مقدمہ” ہے۔ جس میں انہوں نے اپنے شیعہ مذہب کو اہلِ سنت کی کتب سے ثابت کرنے کی ابتر و لغو اور ناکام ترین کوشش کی ہے۔ اسی کتاب میں جناب یہ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی کہ اہلِ سنت والجماعة کی کتب میں بھی تحریفِ قرآن موجود ہے۔ اسی پر جناب پر اعتراض کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
“اب ایک مستند اہلسنت عالم دین جناب سید سلیمان ندوی مرحوم کا ایک بیان بھی پڑھ لیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ نے اپنے غلام ابویونس سے قرآن لکھوایا اور قرآن کی آیت “حافظوا على الصلوٰت والصلٰوة الوسطى” کے ساتھ و صلوة العصر کا لفظ بھی لکھوایا اور کہا کہ میں نے آنحضرتﷺ سے اسی طرح سنا ہے۔ اصل قرآن میں وصلوة العصر نہیں ہے  واضح رہے کہ مولانا ندوی نے اس روایت کیلئے جامع الترمذی کتاب التفسیر کا حوالہ دیا ہے۔” [صفحہ: 292 – 293]
گزارش ہے کہ آپ ہم سے یہ گِلہ کرتے ہیں کہ ہمیں آپ کے مذہب سے ناواقفیت ہے۔ لیکن ہمارا آپ سے یہ گِلہ ہے کہ آپ تو اپنے ہی ہاتھ میں موجود کتاب کے ایک ہی صفحہ پر موجود ایک لائن (Line) سے آگے \ پیچھے والی لائن (Line) سے بھی عدمِ واقفیت رکھتے ہیں۔
دراصل جناب سلیمان ندوی مرحوم نے لکھا ہے کہ:
“قرآنِ مجید کو موجودہ متواتر حروف و کلمات و آیات کوئی دوسرا زائد حرف یا کلمہ یا آیت بطریق غیر متواتر کسی صحابی سے مروی ہو تو اس کو قرأت شاذہ کہتے ہیں۔ اس قسم کی دو ایک قرأتیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی مروی ہیں، ایک تو اس آیت میں:
حَافِظُوْا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطىٰ (وصلوٰة العصر)۔
“نمازوں کی پابندی کرو خصوصًا بیچ کی نماز کی (اور عصر کی نماز)۔”  ابویونس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے غلام کہتے ہیں کہ مجھ کو انہوں نے ایک قرآن لکھنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ جب اس آیت پر پہنچو تو مجھے اطلاع دینا۔ جب میں اس آیت پر پہنچا تو انہوں نے آیت بالا کو اس طرح لکھوایا اور کہا کہ میں نے آنحضرتﷺ سے اسی طرح سنا ہے،(جامع ترمذی: تفسیر آیت مذکور) اصل قرآن میں وَصَلوٰةِ الْعَصْرِ کا لفظ نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس آیت سے “وَصَلوٰةِ الْعَصْرِ” کی زیادتی قرآن میں مقصود نہ تھی بلکہ {الصَّلَاةِ الْوُسْطىٰ} کی تفسیر مقصود تھی اس میں راوی کی غلط فہمی کو دخل ہے۔” [سیرتِ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ؛ صفحہ:159 ؛ ناشر: مکتبہ اسلامیہ ؛ اشاعت:اپریل:2005ء]
یعنی یہاں ام المؤمنین رضی اللہ عنہا کا مقصد {الصَّلَاةِ الْوُسْطىٰ(درمیانی نماز)} کی تفسیر کر کے یہ بتانا مقصود تھا کہ درمیانی نماز کون سی ہے!
اگر آپ اسی صفحہ پر موجود اسی پیراگراف سے پیچھے والی دو سطروں اور اگلی دو سطروں سے واقف ہوتے ، تو آپ یقینًا یہ حوالہ پیش کرنے کا تکلف نہ کرتے۔
یہ اصل روایت جامع الترمذی شریف میں موجود ہے۔ [ترمذی؛ حدیث نمبر:2982]
اس سے اگلی حدیث ملاحظہ فرمائیں:
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَآلہٖ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ صَلَاةُ الْوُسْطىٰ صَلَاةُ الْعَصْرِ ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ أَبُو عِيسىٰ:‏‏‏‏ هٰذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ نبئ مکرمﷺ کی ذاتِ اقدس نے ارشاد فرمایا: ”صلاة الوسطى (بیچ کی نماز) نمازِ عصر ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ [ترمذی؛ حدیث نمبر:2983] یہی حدیث حضرت عبد اللہ ابنِ مسعود ؓ سے بھی مروی ہے۔ [ترمذی؛ حدیث نمبر:2985] [ترمذی؛ حدیث نمبر:181 ؛ 182] [مشکٰوۃ ؛ حدیث: 634]
حضور ختمی مرتبتﷺ کی ذاتِ اقدس سے بھی اس آیت کی وہی تفسیر منقول ہے۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے بیان فرمائی۔
ام المؤمنینؓ سے اس آیت کی تفسیر میں 2 اقوال بندۂ ناچیز کی نظر سے گزرے ہیں۔ 1: {الصَّلَاةِ الْوُسْطىٰ} سے مراد نمازِ عصر ہے۔
2: {الصَّلَاةِ الْوُسْطىٰ} سے مراد نمازِ ظہر ہے۔
مشکٰوۃ میں ایک روایت ملتی ہے:
عَن زيد بن ثَابت وَعَائِشَة قَالَا: الصَّلَاةُ الْوُسْطَى صَلَاةُ الظُّهْرِ۔
ترجمہ: حضرت زید بن ثابت اور عائشہ ؓ بیان کرتے ہیں ، درمیان والی نماز سے مراد نماز ظہر ہے۔ [مشکٰوۃ شریف ؛ حدیث نمبر: 636] [ترمذی؛ حدیث نمبر:182]
شیعہ مذہب کی سب سے معتبر و مستند اور قدیم تفسير میں علی بن ابراہیم القمی نے لکھا: عن أبي عبد الله ؑ ، أنه قرأ حافظوا على الصلوٰت والصلوٰة الوسطى صلوة العصر و قوموا لله قانتین۔
یعنی امام جعفر صادق ؓ سے روایت ہے کہ وہ (اس آیت کی) تلاوت یوں کیا کرتے تھے: حافظوا على الصلوٰت والصلٰوة الوسطى صلوة العصر وقوموا لله قانتین۔ [تفسیر القمي ؛ صفحہ:76 ؛ تفسیر سورة البقرة: ٢٣٨ ؛ منشورات ذوی القربی ، الطبعة الاولیٰ: 2007ء – 1428ھ]
مترجم تفسیرِ قمی (ترجمہ از شیعہ محمد کاظم شہیدی) میں حضرت ابو عبد اللہ امام جعفر صادق ؓ سے نقل کیا گیا ہے انہوں نے “صلوٰة الوسطیٰ کے بعد صلاة العصر کا اضافہ کیا۔” [مترجم تفسیر القمی ؛ جلد:1 ؛ صفحہ:240 ؛ ناشر: مصباح القرآن ٹرسٹ لاہور ؛ سال اشاعت: 2020ء ؛ تفسیر آیتِ مذکورہ]
حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تو فقط تفسیر بیان فرما رہی ہیں ؛ بقول مذہبِ تشیع حضرت سیدنا امام جعفر صادق ؓ تو آیت ہی یوں پڑھا کرتے تھے ؛ بلکہ واضح الفاظ میں موجود ہے کہ انہوں نے اضافہ کیا۔ اب آپ زحمت اور جرأت کر کے حضرت سیدنا امام جعفر صادق ؓ کی ذاتِ گرامی کا حکم بتائيے!
(اعاذنا اللہ منہ)

مزید معلومات کے لیے ہمارے یوٹیوب چینل “MUHASBA” کی جانب رجوع فرمائیں۔

راقم الحروف
محمد عاقب جاوید

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں